MOJ E SUKHAN

ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب

Saaqi hay garcha bay shummar sharab

غزل

ساقی ہے گرچہ بے شمار شراب
نہیں خوش تر سوائے یار شراب

قتل پر کس کے آج ہوتی ہے
توسن حسن پر سوار شراب

رکھ کرم پر ترے نظر مجرم
نوش کرتے ہیں بے شمار شراب

ان کو آنکھیں دکھا دے ٹک ساقی
چاہتے ہیں جو بار بار شراب

یا علی حشر میں دو چنداؔ کو
آب کوثر کی خوش گوار شراب

ماہ لقا بائی چندا

Mah laqa Baaee Chanda

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم