غزل
وصل منظور نہ ہو گر تو اجارا کیا ہے
دوسرے دل پہ بھلا زور ہمارا کیا ہے
رہزنوں کو یہ دیا راہ میں دھوکا میں نے
مال و زر سب یہ تمہارا ہے ہمارا کیا ہے
وصل اک رات کا یا خون بہانا میرا
تم کو ان دونوں میں اے جان گوارا کیا ہے
زہر کس طرح نہ کھاؤں میں شب فرقت میں
جان دینے کے سوا ہجر میں چارا کیا ہے
ملیے غیروں سے بہت خوب نہ سنیے کہنا
زک اٹھائیں گے حضور آپ ہمارا کیا ہے
ٹکڑے برچھی سے کرو یا ہدف تیر کرو
جگر و دل یہ تمہارے ہیں ہمارا کیا ہے
جان دینے کو عبث منع مجھے کرتے ہو
اس میں نقصان مری جان تمہارا کیا ہے
آپ پر ہم ہوں فدا آپ ہوں غیروں پہ نثار
سچ ہے دنیا میں کسی دل پہ اجارا کیا ہے
کیونکر اس شوخ کو اپنا میں کروں اے فاخرؔ
تمہیں بتلاؤ کسی دل پہ اجارا کیا ہے
فاخر لکھنوئی