MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی

یوں ہی گر ہر سانس میں تھوڑی کمی ہو جائے گی
ختم رفتہ رفتہ اک دن زندگی ہو جائے گی

دیکھنے والے فقط تصویر ظاہر پر نہ جا
ہر نفس کے ساتھ دنیا دوسری ہو جائے گی

گر یہی فصل جنوں زا ہے یہی ابر بہار
عظمت توبہ نثار میکشی ہو جائے گی

مرگ بے ہنگام کہتے ہیں جسے آج اہل درد
کل یہی صورت بدل کر زندگی ہو جائے گی

ذکر ہے زنداں میں وہ گلزار پر بجلی گری
آج میرے آشیاں میں روشنی ہو جائے گی

سجدہ گاہ عام پر سجدے سے کچھ حاصل نہیں
مفت آلودہ جبین بندگی ہو جائے گی

ختم ہے شب چہرۂ مشرق سے اٹھتی ہے نقاب
دم زدن میں روشنی ہی روشنی ہو جائے گی

متصل ہیں ضعف و قوت کی حدیں ہاں ہوشیار
ورنہ اس ترک خودی میں خودکشی ہو جائے گی

زخم بھی تازہ ہے اور دل بھی نہیں مانوس درد
رفتہ رفتہ یوں ہی عادت صبر کی ہو جائے گی

شمع سا جب شام ہی سے ہے گداز دل رواںؔ
صبح تک کیا جانے کیا حالت تری ہو جائے گی

جگت موہن لال رواں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم