MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یا دن کی باتیں ہوتی ہیں یا رات کی باتیں ہوتی ہیں

غزل

یا دن کی باتیں ہوتی ہیں یا رات کی باتیں ہوتی ہیں
یہ دنیا ہے اس دنیا میں ہر بات کی باتیں ہوتی ہیں

دن رات تمہاری محفل میں دن رات کی باتیں ہوتی ہیں
کچھ بات نہیں ہوتی لیکن بے بات کی باتیں ہوتی ہیں

جس بات کی باتیں ہوتی ہیں اس بات کی کوئی بات نہیں
جس بات کی کوئی بات نہیں اس بات کی باتیں ہوتی ہیں

جس بات پہ اتنی بات بڑھی اس بات میں کوئی بات نہ تھی
جب بات پہ بات آ جاتی ہے تب بات کی باتیں ہوتی ہیں

جو بات زباں پر آ جائے وہ بات پرائی ہوتی ہے
جو بات پرائی ہوتی ہے اس بات کی باتیں ہوتی ہیں

وہ بات کدھر سے نکلی ہے یہ بات کہاں تک جائے گی
جب بات سے بات نکلتی ہے تو بات کی باتیں ہوتی ہیں

کچھ بات کرو کچھ بات سنو کچھ بات چلے کچھ بات بنے
جو بات بھی ہے بات ایک ہی ہے جس بات کی باتیں ہوتی ہیں

کچھ بات گھٹائی جاتی ہے کچھ بات بڑھائی جاتی ہے
جب بات بڑھائی جاتی ہے تو بات کی باتیں ہوتی ہیں

یہ بات ہوئی وہ بات ہوئی اب بات ہوئی جب بات ہوئی
کیا بات ہوئی کیوں بات ہوئی کس بات کی باتیں ہوتی ہیں

ہر بات پہ ان کی محفل میں باتوں سے منورؔ تنگ ہیں ہم
اس بات کی باتیں ہوتی ہیں اس بات کی باتیں ہوتی ہیں

منور بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم