MOJ E SUKHAN

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں

غزل

وفا کی فصل پھر بونے چلی ہوں
میں کیا پاؤں گی بس کھونے چلی ہوں

جنوں کی حد سے بھی آگے قدم ہے
نہ جانے اور کیا ہونے چلی ہوں

یہ ممکن تو نظر آتا نہیں ہے
انا کو اپنی میں دھونے چلی ہوں

سمندر آ گیا میرے مقابل
جب اس نے دیکھا میں رونے چلی ہوں

یہی نیکی مجھے زندہ رکھے گی
کہ بوجھ اوروں کا میں ڈھونے چلی ہوں

رہی ہوں مضطرب خود کو بھی پا کر
پھر اپنے آپ کو کھونے چلی ہوں

اتر آئی ہے یاد آنکھوں میں تیری
میں تیرے واسطے سونے چلی ہوں

بہت ہے بارش آلام رومیؔ
حفاظت کو کسی کونے چلی ہوں

رومانہ رومی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم