MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ

غزل

دل کھول کر ہنسیں نہ تو آنسو بہائیں لوگ
چیخوں کو پھر بتاؤ کہ کیسے دبائیں لوگ

رہنا پڑے گا ایسے ہی تا زندگی ہمیں
جو دن گزر گۓ ہیں انھیں بھول جائیں لوگ

پہلے تو دل سے دل کو ملانے کی بات تھی
اب حکم یہ ہوا ہے کہ دوری بنائیں لوگ

لاشوں کے اس ہجوم میں اک فکر یہ بھی ہے
کس کو اتاریں قبر میں کس کو جلائیں لوگ

بھولے سے بھی نہ بھولے گا سن دو ہزار بیس
جو دل پہ نقش ہو گیا کیسے مٹا ئیں لوگ

دولت سے بھی سکون میسر نہیں ہوا
نصرت کا مشورہ ہے کہ نیکی کمائیں لوگ

نصرت عتیق گورکھپوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم