MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا

غزل

یہ نہر آب بھی اس کی ہے ملک شام اس کا
جو حشر مجھ پہ بپا ہے وہ اہتمام اس کا

سپاہ تازہ بھی اس کی صف نگاہ سے ہے
صفائے سینۂ شمشیر پر ہے نام اس کا

امان خیمۂ رم خوردگاں میں باقی ہے
کہ نا تمام ہے اک شوق قتل عام اس کا

کتاب عمر سے سب حرف اڑ گئے میرے
کہ مجھ اسیر کو ہونا ہے ہم کلام اس کا

دل شکستہ کو لانا ہے رو بہ رو اس کے
جو مجھ سے نرم ہوا کوئی بند دام اس کا

میں اس کے ہاتھ سے کس زخم میں کمی رکھوں
شروع ناز بھی اس کا ہے اختتام اس کا

افضال احمد سید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم