MOJ E SUKHAN

وہ جنت نگاہ وہ خمخانے کیا ہوئے

وہ جنت نگاہ وہ خمخانے کیا ہوئے
صہبائے رنگ رنگ کے پیمانے کیا ہوئے

اپنی ہی الجھنوں میں اضافہ کیا ہے کچھ
آزاد تیری زلف سے دیوانے کیا ہوئے

زخموں نے اہلِ دل کو گلستاں بنا دیا
اب ان کو جستجو ہے کہ ویرانے کیا ہوئے

اے دل تری حمیت و غیرت کو کیا ہوا
ان کے حضور ضبط کے افسانے کیا ہوئے

بے کیف کس قدر ہے فدا محفلِ سخن
فنکار فن شناس خدا جانے کیا ہوئے

فدا خالدی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم