MOJ E SUKHAN

ہمیں تو بس اتنی ہی خبر ہے

ہمیں تو بس اتنی ہی خبر ہے
ہمارا سر ہے تمہارا در ہے

اے فتنہ گر کیا تجھے خبر ہے
جو جل رہا ہے وہ تیرا گھر ہے

یہ میرے رب کا کرم ہے مجھ پر
خود اپنے اوپر مری نظر ہے


میں کچھ نہیں ہوں یہ سچ ہے لیکن
مری وفا تو عظیم تر ہے

مجھے محبت ہی چاہیے بس
کوئی بتائے گا وہ کدھر ہے

ابھی تو دل میں نہیں وہ پہنچا
ابھی تو حیرت میں گم نظر ہے

برا نہیں ہے یہ آسماں بھی
زمیں تو لیکن ہمارا گھر ہے

کبھی بھی ظلم و ستم کے آگے
جھکا نہیں جو وہی تو سر ہے

ابھی تو پہنچے ہیں کہکشاں تک
ابھی تو آگے کا بھی سفر ہے

فیاض علی فیاض

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم