Aap Sultaan Howakejye Gada Ham bhi Nahi
غزل
آپ سلطان ہوا کیجے گدا ہم بھی نہیں
اس قدر تو گئے گزرے بخدا ہم بھی نہیں
اب انا کو کرے سجدہ تو محبت ہی کرے
جبہہ سا آپ نہیں ناصیہ سا ہم بھی نہیں
جائیے جائیے مت دیکھیے مڑ کر پیچھے
ایسے شوقینِ جفا خوارِ وفا ہم بھی نہیں
چارۂِ سرکشئِ دل کریں اللہ اللہ
وہ خدا بندہ نواز آپ تو کیا ہم بھی نہیں
دوستی دشمنی اب آپ نبھائیں تو نبھائیں
ہم کو ربط آپ سے ایسا کوئی باہم بھی نہیں
مہربان آپ بھی ہیں اور بھی ہوں گے لیکن
چاہتے تو دلِ ناداں کا برا ہم بھی نہیں
لاکھ لیلائیں امڈ آئیں غزل پر راحیلؔ
آخر اس دشت کی آوارہ صدا ہم بھی نہیں
راحیلؔ فاروق
Raheel Farooq