MOJ E SUKHAN

کیا خدا ہر جگہ نہیں ملتا

کیا خدا ہر جگہ نہیں ملتا
ہم جہاں ڈھونڈتے وہیں ملتا

وہ ہمیں کس لۓ نہیں ملتا
ہر کہیں تھا تو ہر کہیں ملتا

سب سے ملتا ہے سب کو ملتا ہے
کون کہتا ہے وہ نہیں ملتا

دل ہی میں اس کو جستجو ہوتی
لطف جب تھا ہمیں یہیں ملتا

تھی غرض ہم کو اس کے ملنے کی
اس سے کیا بحث وہ کہیں ملتا

کس قد دیر آشنا وہ ہے
بے ملاۓ کبھی نہیں ملتا

کیا ہمیں سعی کی ضرورت تھی
وہ اگر چاہتا یونہی ملتا

ہے قیام اس کا خانہء دل میں
مگر اس پر بھی وہ نہیں ملتا

ڈھونڈتے ہم جہاں جہاں اس کو
لطف ہوتا وہیں وہیں ملتا

ہم بھی کچھ دردِ دل سنا دیتے
کاش موقع سے وہ کہیں ملتا

وہ بھی ملتا ہے میں جو ملتا ہوں
نہیں ملتا ہوں تو نہیں ملتا

دیر و مسجد میں ڈھونڈھنا تھا ہمیں
وہ یہیں یا وہیں کہیں ملتا

حضرت نوحؔ آپ نو ملۓ
دیکھۓ پھر وہ کیوں نہیں ملتا

نوح ناروی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم