MOJ E SUKHAN

کام آئیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے

غزل

کام آئیں تعلق کی بیساکھیاں چند ماتھوں پہ مہتاب ٹانکے گئے
آخری صف میں بیٹھے ہوؤں کی کہو کب اٹھایا گیا اور ہانکے گئے

شمع دان غزل سے بھڑکتی ہوئی بلی ماراں میں کوئی حویلی نہیں
گومتی کے کنارے اندھیرا ہوا مرثیہ سن کے مجلس سے بانکے گئے

چق اٹھائی تو دنیا کے بازار میں خواہشوں کی نجاست کا انبار تھا
ہم نے بجتا ہوا ہر کٹورا سنا اور کھڑکی سے چپ چاپ جھانکے گئے

زرد سکوں کا صندوق کھلتا رہا باٹ چڑھتے رہے مال تلتا رہا
چار جانب سے بولی بڑھائی گئی شعر بیچے گئے لفظ آنکے گئے

شاہ شانوں پہ رکھے ہوئے تخت پر دیوتا کی سماجت میں مصروف تھا
بد دعائیں اگلتے ہوئے بد زباں آہ بھرتے رہے دھول پھانکے گئے

آخری بستیوں کی کہانی سنو سرخ اینٹوں کی بھٹی بجھائی گئی
پھول ریتی کے نیچے دبائے گئے چاہ مٹی کے ٹیلوں سے ڈھانکے گئے

جاں کنی کی اذیت میں غم خوار کیا ایک مرتے ہوئے کو عزادار کیا
کب لحد میں کہیں شمع رکھی گئی کیا کفن میں کبھی پھول ٹانکے گئے

احمد جہانگیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم