MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

مجھے ساقی نے سمجھایا اشاروں ہی اشاروں میں

غزل

مجھے ساقی نے سمجھایا اشاروں ہی اشاروں میں
مرے حصے کی بانٹی جائے گی پرہیز گاروں میں

جہاں تھے حسن و عشق و عقل و وحشت دل بھی جا پہنچا
خدا کے فضل سے اب وہ بھی ہے پانچوں سواروں میں

مری بے اختیاری میں بھی ربط و ضبط قائم ہے
امڈ آتے ہیں جو آنسو تو بہتے ہیں قطاروں میں

دل کم ظرف نے ہم کو کہیں کا بھی نہیں چھوڑا
رہے تھے چار دن حضرت ہمارے راز داروں میں

فریب وعدۂ فردا کا پردہ ہی رہے یارب
چھڑی ہے بحث اس موضوع پر امیدواروں میں

کبھی گھر بیٹھے بیٹھے چھپ چھپا کر پی بھی لیتا ہوں
مگر میرا شمار اب تک بھی ہے پرہیزگاروں میں

تمہارے فیض سے یہ بھی شرف حاصل ہوا مجھ کو
مری دیوانگی کے تذکرے ہیں ہوشیاروں میں

بہار آتے ہی جب رندوں نے اپنے جام کھنکائے
ہراساں ہو کے توبہ جا چھپی پرہیز گاروں میں

خدا شاہد ہے ساحرؔ ان کی عظمت اور بڑھ جاتی
اگر وہ بیٹھتے آ کر کبھی ہم خاکساروں میں

ساحر سیالکوٹی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم