MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا

غزل

ہم دشت بے کراں کی اذاں ہو گئے تو کیا
وحشت میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیا

باسی گھٹن سے گھر کے اندھیرے نہ کم ہوئے
ہم رات جگنوؤں کی دکاں ہو گئے تو کیا

الجھن بڑھی تو چند خرابے خرید لائے
سودے میں اب کی بار زیاں ہو گئے تو کیا

گھر میں ہمارے قید رہا زندگی کا شور
ہم بے زبان نذر فغاں ہو گئے تو کیا

ہم ہیں ہمارا شہر ہے پختہ مکان ہے
کچھ مقبرے نصیب خزاں ہو گئے تو کیا

ست رنگ آسماں کی دھنک ہے تمہارے ساتھ
ہم دلدلی زمین یہاں ہو گئے تو کیا

جب دھوپ آسمان کے حجرے میں سو گئی
آسیب تیرگی کے جواں ہو گئے تو کیا

پت جھڑ نے جب سے مانگ سجائی ہے اپنی رندؔ
ہم سونی رہ گزر کا نشاں ہو گئے تو کیا

پی پی سری واستو رند

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم