MOJ E SUKHAN

کتنی وحشت ہے اس کے چہرے پر

کتنی وحشت ہے اس کے چہرے پر
کتنی مدت سے وہ نہیں سویا
کتنا الجھا ہوا سا رہتا ہے
اتنا خاموش بھی نہیں لیکن
اس کے ماضی کا عکس ہے یعنی
اک دیا تیرگی میں جلتا ہوا
آرزو کل سے اس کی وابستہ
حال بے نام سی سزائے عشق
ہے یہ انجام کی خلش شاید
وقت کی ہے کوئی روش شاید
حادثہ حادثہ ہے میت نہیں
اور امید کوئی جیت نہیں
بات کیسے کوئی یہ سمجھائے
یہ محبت بھی کوئی ریت نہیں
دشت و صحرا میں کوئی زیست نہیں
بحر میں خود اتر کے تم دیکھو
خود بھی سج اور سنور کے تم دیکھو
وہ جو ساحل پہ بھیڑ ہے اس میں
کوئی بھی ایک شخص تنہا نہیں

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم