یہی کیا زندگی میں میری ہر کوشش کا حاصل ہے
کہ تنہائی و ناکامی ہی اب مدِمقابل ہے
دلِ ناداں نے میرے تجھ کو چاہا ہے ہر اک لمحہ
تجھے احساس کیوں ہوگا تو بےحس ہے تو بے دل ہے
یہی رشتہ ہزاروں نام کے رشتوں پہ ہے بھاری
تو کچھ بھی تو نہیں میرا مگر تو میری منزل ہے
تری امید میں اک عمر میں نے کاٹ دی تنہا
مگر تیری نظر میں بے نیازی اب بھی شامل ہے
تجھے پہچاننا کیا ہے کہ اتنا جانتی ہوں میں
خدا بنتا ہے تو میرا مگر تو میرا قاتل ہے
سہارا بے سہاروں کا نہیں کوئی مرے مولا
ترے ہی نام کا اک آسرا بےکس کو حاصل ہے
کوئی کیا ٹال سکتا ہے کہیں تقدیر کا لکھٌا
سمجھ کا پھیر ہے اس میں بھلا کب عقل داخل ہے
گلِ شاداب کی خوشبو تو چاروں سمت پھیلے گی
بہاروں میں مہک اٹھنا گلوں کا حق کامل ہے
تجھے شہناز کیوں ہے بدگمانی اپنی قسمت سے
تری خوشیوں کے رستے میں کہاں تقدیر حائل ہے
شہناز رحمت