MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے

غزل

دل اکیلا ہی نہیں رقص میں جاں رقص میں ہے
ہم اگر رقص میں ہیں سارا جہاں رقص میں ہے

حیرت آئنہ تنہا نہ یہاں رقص میں ہے
جانے کیا دیکھ لیا دل نے کہ جاں رقص میں ہے

چشم ساقی میں ہے جس دن سے مرا شیشۂ دل
عالم کار گہ شیشہ گراں رقص میں ہے

جب سے اس نام کا آیا ہے ادا کر لینا
کون جانے یہ حقیقت کہ زباں رقص میں ہے

اے دلؔ اس بارگہہ حسن میں ہوں جب سے مقیم
عشق شاید کہ مری طبع رواں رقص میں ہے

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم