MOJ E SUKHAN

کس لۓ پینے کو منگیں بادہ و پیمانہ ہم

کس لۓ پینے کو منگیں بادہ و پیمانہ ہم
ہو گۓ بدمست ساقی دیکھ کر مے خانہ ہم

کیوں کہیں اپنے کو سوزِ عشق سے بے گانہ ہم
تم جلاؤ ہم جلیں تم شمع ہو پروانہ ہم

کچھ دنوں صحرا البصحرا اب اڑائیں خاک بھی
مدتوں پھرتے رہے ویرانہ در ویرانہ ہم

وہ جو کچھ ارشاد فرماتے ہیں فرماتے ہیں
لیکن اپنے کو کہیں کس واسطے دیوانہ ہم

اُس قدر بھر جاۓ پی کر جس قدر خالی کریں
چاہتے ہیں کوئی اِس ترکیب کا پیمانہ ہم

اِس طرح احساس آدابِ مقامی اٹھ گیا
بزم میں بلبل بنے گل زار میں پروانہ ہم

سر بسجدہ کیوں نہ ہوتے اپنے دل کے سامنے
سن چکے تھے واقعاتِ کعبہ و بت خانہ ہم

قبلِ اظہارِ محبت دل طلب کرتے ہیں آپ
جرم سر زد ہو نہ ہو دے دیں گے مگر جرمانہ ہم

محفلِ ساقی کے چکر بے سبب ہوتے نہیں
ڈھونڈتے رہتے ہیں اپنے نام کا پیمانہ ہم

آرزوئیں چند نکلیں حسرتیں چند آ گئیں
خانہء دل کو سمجھتے ہیں مسافر خانہ ہم

بزمِ سوز و ساز میں یہ بھی ہے دل سوزی کوئی
سیکڑوں پروانے جل جائیں کریں پروانہ ہم

مے کدے میں ہر گھڑی ساغر چھلکتا ہی رہے
جان لیں کیوں اس کو اپنی عمر کا پیمانہ ہم

جان بھی اب اُن کو دے دیں دل تو پہلے دے چکے
کیا کریں اس کے سوا اے ہمتِ مردانہ ہم

حسنِ مطلق کا نشاں کعبے میں تو ملتا نہیں
احتیاطۤ آؤ چل کر دیکھ لیں بت خانہ ہم

اور کیا پیرِ مغاں دیتا سخوات کا ثبوت
پا گۓ خم مے کدے میں مانگ کر پیمانہ ہم

اِس طرح سمجھا رہے ہیں وہ ہمیں آدابِ عشق
جیسے ہوں بلکل ہی اِن اسرا سے بے گانہ ہم

گل بدامن ہے چمن ساغر بکف ہر شاخِ گل
کیوں نہ ایسے میں کریں اک نعرہء مستانہ ہم

کشمکش دیر و حرم کی کس سے جھیلی جاۓ گی
ہے یہی بہتر کہ رکھیں مشربِ رندانہ ہم

دل کسی کو سونپ کر کیا دل کا غم اب کیجیۓ
لے چکے سوداۓ الفت دے چکے بیعانہ ہم

کیوں فلک سے آشیاں پر ٹوٹ کر گرتی نہیں
برقِ سوزاں کو سمجھتے ہیں چراغِ خانہ ہم

عمر بھر پامال یارانِ چمن کرتے رہے
گلشنِ ہستی میں تھے کیا سبزہء بے گانہ ہم

ہو جو ان لفظوں میں وہ عہدِ محبت کچھ نہیں
نبھ سکے گا تو نباہے جائیں گے یارانہ ہم

بجھ چکی تھی شمع محفل اٹھ چکے تھے اہلِ بزم
کس سے کہتے قصہء خاکستر پروانہ ہم

وقت جو گذرے جنون میں قدر اُس کی چاہیۓ
جشِ وحشت ہے سب کچھ پھر نہ صحرا نہ ہم

عمر بھر دریاۓ ذوق و شوق میں بہتے رہے
نوحؔ اِس طوفان سے رکھتے نہ کیوں یارانہ ہم

نوح ناروی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم