باوضو آؤ کریں اپنے نبی کی باتیں
ان کی محفل میں ہوں کیوں اور کسی کی باتیں
آج کی رات مرے خواب میں آئیں آقا
اور پھر ان سے ہوں جی بھر کے انہی کی باتیں
کتنے نبیوں کو تراشا تو وہ شہکار بنا
بات ہو اُنکی، تو ہو جائیں سبھی کی باتیں
جو مجھے رب نے دیا آپکے صدقے سے ملا
اس لیے کرتا ہوں میں اپنے سخی کی باتیں
جب کوئی زخم لگے سینے پہ مرہم رکھ کر
دل مرا مجھ سے کرے خوب علی کی باتیں
یاد صدیق مجھے آئیں یا فاروق مجھے
اشک کرتے ہیں یہ عثمان غنی کی باتیں
دل پریشاں جو ہوا بھیج دیا ان پہ درود
ہوگئیں خود ہی رواں لَب پہ خوشی کی باتیں
اک جھلک دیکھنے اُنکی چلے آئے اقصیٰ
سب نبی کرتے تھے بس اپنے نبی کی باتیں
پڑھ سلام ان پہ یہ عابد ہے خدا کی سنت
خود خدا کرتا ہے قرآں میں انہی کی باتیں
عابد رشید