MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتا

ہمیں ہست و بود پر جو کوئی اختیار ہوتا
تو سفر یہ زندگی کا ذرا خوشگوار ہوتا

ترے فیصلوں کے تابع ہے نوشتۂ مقدر
کبھی ہم سے مشورہ بھی تو اے کردگار ہوتا

ہوئے شش جہت ہویدا، تری اک صدائے کُن سے
نہ وہ غلغلہ بکھرتا، نہ یہ انتشار ہوتا

ترے دارالابتلا میں ہوا امتحان پیہم
ہمیں کب کوئی تھا شکوہ اگر ایک بار ہوتا

ترا شوقِ آزمائش،مِری شورشِ مسلسل
مری آہ کا اثر بھی تو فلک کے پار ہوتا

تری بندہ پروری ہے تو یہ آرزو نہیں ہے
کہ ترے سوا بھی میرا کوئی غمگسار ہوتا

نہ اگر خدا بچاتا اسے گردِ معصیت سے
ترے دل کا آئینہ بھی صبا ؔ داغدار ہوتا

صبا عالم شاہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم