MOJ E SUKHAN

کھلتا بدن گلاب کی جس کو نظر لگے

غزل

کھلتا بدن گلاب کی جس کو نظر لگے
خوشبو کی بھیڑ میں کوئی تجھ سا مگر لگے

جب سے دلوں کے بیچ میں دیوار و در لگے
گلشن کے سارے پیڑ ہمیں بے ثمر لگے

کوئے جنوں کی مٹ گئی پہچان سب مگر
خوشبو جہاں رکے وہیں اس کا ہی گھر لگے

کابل ہو چین ہو کہ وہ بیروت کا دیار
مقتل میں جو گرے مجھے اپنا ہی سر لگے

ہم اس مکان سے بھی بہت تنگ آ چکے
گھر ایسا کوئی ہو جو سدا اپنا گھر لگے

اندر سے ریزہ ریزہ ہے وہ شخص بھی میاں
باہر سے دیکھنے میں جو شوریدہ سر لگے

کتبہ وہاں لگائیو ماہرؔ کے نام کا
دلی میں جب نمائش اہل ہنر لگے

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم