MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خود اپنے واسطے یہ قیمتی سوغات مانگوں گا

خود اپنے واسطے یہ قیمتی سوغات مانگوں گا
میں جنت میں ملوں گا تو تمہارا ہاتھ مانگوں گا

محبت سے بھرے دو بول دامن میں گرا دینا
میں تم سے جب بھی مانگوں گا یہی خیرات مانگوں گا

ہراک قطرے میں تم شامل ہو اور کھل کے برس جاؤ
خدا کی ذات سے ایسی میں اک برسات مانگوں گا

یہ جیسے میں تڑپتا ہوں ملن کو تم بھی تڑپو گی
تمہارے سینے میں ایسا دل بے تاب مانگوں گا

میں اپنی ساری خوشیاں دے کے تجھ کو اس کے بدلے میں
تری قسمت میں جو لکھے ہیں وہ صدمات مانگوں گا

سمندر کا کنارہ ہو مرے پہلو میں تم بیٹھو
ستاروں سے بھری میں ایک ایسی رات مانگوں گا

یاسر سعید صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم