MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے

کبھی وہ آنکھ کبھی فیصلہ بدلتا ھے
فقیہہِ شہر سفینہ بدست چلتا ھے

وہ میری آنکھیں جنہیں تم نے طاق پر رکھا
انہی میں منزلِ جاں کا سراغ ملتا ھے

اب اگلے موڑ کی وحشت سے دل نہیں ہارو
زوالِ شام سے منظر نیا نکلتا ھے

مجھے سوال کی دہلیز پار کرنی ھے
یہ دیکھنے کہ ارادہ کہاں بدلتا ھے

شکستِ ساعتِ جاں ورثہء زمیں تو نہیں
بھنور کا پاؤں سوادِ سفر نکلتا ھے

ہزیمتوں کی صلیبوں کو شب چراغ کرو
کہ آندھیوں کا سفینہ ہونہی سنبھلتا ھے

میری زباں پہ کوئی ذائقہ ٹھہر نہ سکا
کہ مجھے میں اور کوئی پیرہن بدلتا ھے

(کشور ناہید)

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم