MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے

غزل

سب خیال اس کے لیے ہیں سب سوال اس کے لیے
رکھ دیا ہم نے حساب ماہ و سال اس کے لیے

اس کی خوشبو کے تعاقب میں نکلا آیا چمن
جھک گئی سوئے زمیں لمحے کی ڈال اس کے لیے

سرو تا خاک گیہ اپنی وفا کا سلسلہ
سر کشیدہ اس کی خاطر پائمال اس کے لیے

کیا مکاں خوردہ خلائق میں چلے اس کا خیال
تنگ ہائے شہر کچھ رستہ نکال اس کے لیے

شاخ تنہائی سے پھر نکلی بہار فصل ذات
اپنی صورت پر ہوئے ہم پھر بحال اس کے لیے

وصل کے بدلے میں کیا داغ ستارہ مانگنا
اس شب بے خانماں سے کر سوال اس کے لیے

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم