MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

عشق کا کچھ بھی نہ انجام تو اے دل سمجھا

غزل

عشق کا کچھ بھی نہ انجام تو اے دل سمجھا
پہلے آسان تھا کیا اب جسے مشکل سمجھا

بے حجاب ان کو شب وصل جو دیکھا میں نے
چاند سے چہرے کو رشک مہ کامل سمجھا

دق ہے وہ جان مری عشق کی بیماری سے
کہ حکیموں نے بھی جس کو مرض سل سمجھا

بھویں حوروں کی نظر آئیں مجھے تلواریں
باغ جنت کو بھی میں کوچۂ قاتل سمجھا

ذرہ دیکھا جو کبھی متصل مہر فلک
میں نے قرب رخ پر نور صنم تل سمجھا

بہر تسلیم و رضا ہم نے جھکا دی گردن
ہائے افسوس کہ اس پر بھی نہ قاتل سمجھا

تو نہیں پر ترا جلوہ تو ہے میرے دل میں
پھر مجھے دور بھلا کیوں مہ کامل سمجھا

رخ دکھا کر مجھے کیا دھوکے دیے قرآں کے
ہاتھ گردن میں جو ڈالے میں حمائل سمجھا

جب سے دیوانہ تری زلف مسلسل کا ہوا
جس نے دیکھا مجھے مانند سلاسل سمجھا

جھیلیں تکلیفیں بہت عشق کی تو نے شیداؔ
اب نہ ہونا کسی بے رحم پہ مائل سمجھا

عبدالمجید خواجہ شیدا

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم