MOJ E SUKHAN

کیوں کر نہ ملے انہیں خدائی

غزل

کیوں کر نہ ملے انہیں خدائی
کرتے ہیں برے سے جو بھلائی

مشفق یہ ہوئے جہاں میں پیدا
رسوا نہ ہو کیوں کے آشنائی

ٹک شیخ جی واں تلک تو چلئے
دیکھیں گے تمہاری پارسائی

سر جاوے تو جاوے اس سخن پر
کب کرتے ہیں مرد ہے وفائی

سر جاوے تو جاوے اس سخن پر
کب کرتے ہیں مرد ہے وفائی

شعلہ نہ کرے وہ شمع سے آہ
کرتی ہے جو کچھ تری جدائی

جس شئے کو کیا تلاش پایا
پر بوئے وفا کہیں نہ پائی

کر قتل تو عشق کو مری جاں
منظور اگر ہے خود نمائی

خواجہ رکن الدین عشق

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم