MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے

غزل

دیکھیں قریب سے بھی تو اچھا دکھائی دے
اک آدمی تو شہر میں ایسا دکھائی دے

اب بھیک مانگنے کے طریقے بدل گئے
لازم نہیں کہ ہاتھ میں کاسہ دکھائی دے

نیزے پہ رکھ کے اور مرا سر بلند کر
دنیا کو اک چراغ تو جلتا دکھائی دے

دل میں ترے خیال کی بنتی ہے اک دھنک
سورج سا آئنے سے گزرتا دکھائی دے

چل زندگی کی جوت جگائے عجب نہیں
لاشوں کے درمیاں کوئی رستہ دکھائی دے

کیا کم ہے کہ وجود کے سناٹے میں ظفرؔ
اک درد کی صدا ہے کہ زندہ دکھائی دے

ظفر گورکھ پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم