غزل
یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے
چراغ شب کے جلاؤ کہ گھپ اندھیرا ہے
بسا لیا تو ہے اک شہر آرزو دل میں
نظر کے سامنے لیکن سکوت صحرا ہے
بجھا کے پیاس ڈبویا نہ اپنی غیرت کو
گواہ تشنہ لبی کا ہماری دریا ہے
سواد شہر میں آئے تو روشنی کیونکر
سیاہ رات کا سورج پہ جبکہ پہرا ہے
دیا ہے موسم گل نے جو دل کو تحفہ میں
میں کیا بتاؤں کہ وہ زخم کتنا گہرا ہے
جلے درختوں کی شاخیں گواہی دیتی ہیں
ادھر سے قافلہ کوئی ضرور گزرا ہے
کبھی جو ذات سے اپنی تھا انجمن بہزادؔ
حصار غم میں سمٹ کر وہ آج تنہا ہے
بہزاد فاظمی