MOJ E SUKHAN

یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے

غزل

یہ دن کی دھوپ تمہاری نظر کا دھوکا ہے
چراغ شب کے جلاؤ کہ گھپ اندھیرا ہے

بسا لیا تو ہے اک شہر آرزو دل میں
نظر کے سامنے لیکن سکوت صحرا ہے

بجھا کے پیاس ڈبویا نہ اپنی غیرت کو
گواہ تشنہ لبی کا ہماری دریا ہے

سواد شہر میں آئے تو روشنی کیونکر
سیاہ رات کا سورج پہ جبکہ پہرا ہے

دیا ہے موسم گل نے جو دل کو تحفہ میں
میں کیا بتاؤں کہ وہ زخم کتنا گہرا ہے

جلے درختوں کی شاخیں گواہی دیتی ہیں
ادھر سے قافلہ کوئی ضرور گزرا ہے

کبھی جو ذات سے اپنی تھا انجمن بہزادؔ
حصار غم میں سمٹ کر وہ آج تنہا ہے

بہزاد فاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم