MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ

بیچتے کیا ہو میاں آن کے بازار کے بیچ
اور انا کاہے کو رکھ چھوڑی ہے بیوپار کے بیچ

اس گھڑی عدل کی زنجیر کہاں ہوتی ہے
جب کنیزوں کو چنا جاتا ہے دیوار کے بیچ

شہر ہوتا ہے ستاروں کے لہو سے روشن
طشت میں سر بھی پڑے ہوتے ہیں دربار کے بیچ

کبھی اس راہ میں پھل پھول لگا کرتے تھے
اب لہو کاٹتے ہیں کابل و قندھار کے بیچ

کرب کے واسطے موجود ہے دنیاۓ بہشت
سچ معلق ہے ابھی آتش و گلزار کے بیچ

راکھ بیٹھے گی تو پھر آگ روانہ ہوگی
جانے کب سے جو دہکتی رہی کہسار کے بیچ

شام اترتی ہے تو واجدؔ میں یہی سوچتا ہوں
آج کا دن بھی گیا یادوں کے انبار کے بیچ

واجد امیر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم