MOJ E SUKHAN

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا

جادۂ زیست پہ برپا ہے تماشا کیسا
دوست بچھڑا ہے ہر اک گام پہ کیسا کیسا

دل کا آتش کدہ ویران پڑا تھا کب سے
آنکھ سے بہنے لگا آگ کا دریا کیسا

اس پہ تو فصل خزاں مار چکی ہے شب خوں
موسم گل کے گزر جانے کا کھٹکا کیسا

چاند سے چہرے نظر آنے لگے ہیں کتنے
کھل گیا میری نگاہوں پہ دریچہ کیسا

جس میں اک اشک نہ ہو آنکھ کہاں ہے وہ آنکھ
بوند پانی کی نہ ہو جس میں وہ دریا کیسا

بے تحاشا جو بڑھی جاتی ہے سوئے گرداب
ناؤ نے دیکھ لیا اس میں کنارا کیسا

دیکھ محفل میں ہر اک آنکھ ہے نم یزدانیؔ
تو نے یہ چھیڑ دیا آج فسانہ کیسا

یزدانی جالندھری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم