MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

میں صدا ! فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے

میں صدا ! فقیری ہوں مجھ میں ہو زیادہ ہے
مجھ میں یار میں کم ہوں اور تو زیادہ ہے

وقت کے خداؤں سے روز جو الجھتا ہوں
شاید ان رگوں میں بھی کچھ لہو زیادہ ہے

کچھ تو بولیے صاحب شور کا فسوں ٹوٹے
آپ کی خموشی میں گفتگو زیادہ ہے

تھر تھراتے ہونٹوں کی سسکیاں بتاتی ہیں
شہرِجاں کی گلیوں میں ہا و ہو زیادہ ہے

زرد سوکھے پتوں میں بھی انا تو ہوتی ہے
مانا تازہ پھولوں میں رنگ بو زیادہ ہے

شاہ دل ترے دل کو چین کیوں نہیں آتا
جب لباسِ فرقت بھی کچھ رفو زیادہ ہے

شاہ دل شمس

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم