MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو

کہوں تو کیا میں کہوں پیاری پیاری آنکھوں کو
سبو کہوں کہ صراحی تمہاری آنکھوں کو

کچھ ایسا چھایا ہے دل پر مرے غبار الم
گلوں کے سائے بھی لگتے ہیں بھاری آنکھوں کو

جھلک رہے ہیں وہ پلکوں پہ آنسوؤں کی طرح
وہ غم جو تم نے دئیے ہیں ہماری آنکھوں کو

جھکیں جو پلکیں تو رک جائیں دھڑکنیں دل کی
اٹھیں تو چوم لیں تارے تمہاری آنکھوں کو

لہو گلوں کا بہا ہے بصورت آنسو
خزاں نے لوٹا ہے جب بھی ہماری آنکھوں کو

دعائیں کرتے ہیں نرگس کے پھول گلشن میں
نظر لگے نہ کسی کی تمہاری آنکھوں کو

سلگتی رات کے سینے پہ برف سی رکھ دی
غزل میں ڈھال کے گویا تمہاری آنکھوں کو

مہکتے پھول سنکتی ہوا یہ موسم گل
چمن میں دیکھتے ہیں سب تمہاری آنکھوں کو

ساغر خیامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم