MOJ E SUKHAN

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا

زمین چیخ رہی ہے کہ آسمان گرا
یہ کیسا بوجھ ہمارے بدن پہ آن گرا

بہت سنبھال کے رکھ بے ثبات لمحوں کو
ذرا جو سنکی ہوا ریت کا مکان گرا

اس آئینے ہی میں لوگوں نے خود کو پہچانا
بھلا ہوا کہ میں چہروں کے درمیان گرا

رفیق سمت سفر ہوگی جو ہوا ہوگی
یہ سوچ کر نہ سفینے کا بادبان گرا

میں اپنے عہد کی یہ تازگی کہاں لے جاؤں
اک ایک لفظ قلم سے لہولہان گرا

قریب و دور کوئی شعلۂ نوا بھی نہیں
یہ کن اندھیروں میں ہاتھوں سے شمع دان گرا

فضاؔ کو توڑ تو پھینکا ہواؤں نے لیکن
یہ پھول اپنی ہی شاخوں کے درمیان گر

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم