MOJ E SUKHAN

جذبات کے تیز الاو میں جل جل کے مرے ہیں پروانے

جذبات کے تیز الاو میں جل جل کے مرے ہیں پروانے
پھولوں کی لگن میں کانٹوں پر کتنے ہی چلے ہیں پروانے

گر جرم تھا ہونٹوں سے چھونا محفل میں تری مئے کا ساقی
آنکھوں سے فقط ہم پی لیتے ناصح کیوں چلے ہیں سمجھانے

ہم جب بھی دل مضطر لے کر گلشن کی تمنا میں نکلے
ہر گام پہ تیرے مجنوں کو ملتے ہی رہے ہیں ویرانے

اک پھول کی حسرت دل میں لئے آئے تھے مگر معلوم نہ تھا
اک سنگ گراں سے سر اپنا ہم خود ہی چلے ہیں ٹکرانے

اقبال بسمل

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم