MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اس قدر دور ہوں میں بندہء احساں ہو کر

اس قدر دور ہوں میں بندہء احساں ہو کر
کاش محسوس ہو تم نزدِ رگِ جاں ہو کر

کچھ یہی مصلحتِ وقت ہے ورنہ اے دوست
کون رہتا ہے زمانے میں پریشاں ہوکر

ہم صفیر آج وہ رکھتا ہے سیاست صیاد
جو رگِ گل میں نظر آئے گلستاں ہو کر

دامنِ حسن کا اک تار بھی ہاتھ آ نہ سکا
رہ گئے اہلِ جنوں چاکِ گریباں ہو کر

اب تو مے خانے سے مر کر ہی اٹھوں گا ساقی
جس جگہ جاتا ہوں آتا ہوں پشیماں ہو کر

جس جگہ جاتے فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں
ہم پہنچ جاتے ہیں اس بزم میں انساں ہو کر

عیش ہم لوٹنے والے ہیں بہاریں اس کی
جو بیاباں نظر آتا ہے گلستاں ہو کر

عیش ٹونکی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم