MOJ E SUKHAN

دل چھوڑ کے ہر راہ گزر ڈھونڈھ رہا ہوں

دل چھوڑ کے ہر راہ گزر ڈھونڈھ رہا ہوں
بیٹھے ہیں کہاں وہ میں کدھر ڈھونڈھ رہا ہوں

وہ پیش نظر ہیں تو نظر کیوں نہیں آتے
کیا میرا قصور اس میں اگر ڈھونڈھ رہا ہوں

باریک نگاری کی تمنا تو ہے لیکن
ملتا نہیں مضمون کمر ڈھونڈھ رہا ہوں

پھونکوں‌ گا نشیمن کی طرح اپنے اسے بھی
اس واسطے صیاد کا گھر ڈھونڈھ رہا ہوں

کہتے ہیں جسے عرف میں سب صبح بہاراں
اس شام جدائی کی سحر ڈھونڈھ رہا ہوں

جمتا ہی نہیں نوک مژہ پر کوئی آنسو
کانٹے پہ تلے جو وہ گہر ڈھونڈھ رہا ہوں

یہ جان کے اس بت کا ہے پتھر کا کلیجہ
اے برقؔ میں لوہے کا جگر ڈھونڈھ رہا ہوں

رحمت الہی برق اعظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم