MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر

غزل

اثر ہوتا نہیں ہے پتھروں پر
ہمیں بھی ناز ہے اپنے سروں پر

میں ہلتی شاخ سے ڈرتا نہیں ہوں
بھروسا ہے مجھے اپنے پروں پر

دعائیں مانگتی رہتی ہیں ندیاں
امڈ آتے ہیں بادل ساگروں پر

مجھے ان بستیوں کی آرزو ہے
جہاں تالے نہیں ملتے گھروں پر

قلم کمزور پڑتا جا رہا ہے
سیاست چھا رہی ہے شاعروں پر

لڑے دونوں تھے ہندو اور مسلم
مگر کس کا لہو تھا خنجروں پر

اگر خود پر بھروسا ہے تو الفتؔ
ابھر آتے ہیں چہرے پتھروں پر

راکیش الفت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم