MOJ E SUKHAN

نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی

نہ پوچھ اے مرے غمخوار کیا تمنا تھی
دل حزیں میں بھی آباد ایک دنیا تھی

ہر اک نظر تھی ہمارے ہی چاک داماں پر
ہر ایک ساعت غم جیسے اک تماشا تھی

ہمیں بھی اب در و دیوار گھر کے یاد آئے
جو گھر میں تھے تو ہمیں آرزوئے صحرا تھی

کوئی بچاتا ہمیں پھر بھی ڈوب ہی جاتے
ہمارے واسطے زنجیر موج دریا تھی

بغیر سمت کے چلنا بھی کام آ ہی گیا
فصیل شہر کے باہر بھی ایک دنیا تھی

طلسم ہوشربا تھے وہ منظر ہستی
فضائے دیدہ و دل جیسے خواب آسا تھی

کوئی رفیق سفر تھا نہ راہبر کوئی
جنوں کی راہ میں گلنارؔ جادہ پیما تھی

گلنار آفرین

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم