MOJ E SUKHAN

سارے موسم بدل گئے شاید

سارے موسم بدل گئے شاید
اور ہم بھی سنبھل گئے شاید

جھیل کو کر کے ماہتاب سپرد
عکس پا کر بہل گئے شاید

ایک ٹھہراؤ آ گیا کیسا
زاویے ہی بدل گئے شاید

اپنی لو میں تپا کے ہم خود کو
موم بن کر پگھل گئے شاید

کانپتی لو قرار پانے لگی
جھونکے آ کر نکل گئے شاید

ہم ہوا سے بچا رہے تھے جنہیں
ان چراغوں سے جل گئے شاید

اب کے برسات میں بھی دل خوش ہے
ہجر کے خوف ٹل گئے شاید

صاف ہونے لگے سبھی منظر
اشک آنکھوں سے ڈھل گئے شاید

بارش سنگ جیسے بارش گل
سارے پتھر پگھل گئے شاید

وہ علیناؔ بدل گیا تھا بہت
اس لیے ہم سنبھل گئے شاید

علینا عطرت

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم