MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی

غزل

وہ جو اپنے تھے وہی ہو گئے ہرجائی بھی
بات پیشانی پہ لکھی ہوئی پیش آئی بھی

دل تو پہلے ہی تھا محصور غم تنہائی
اس پہ دھرنا دئے بیٹھی ہے یہ پروائی بھی

جس طرف رخ ہو ہوا کا یہ برستی ہے وہیں
ابر کی طرح سے ہوتی ہے شناسائی بھی

دل کو رہتی بھی ہے اب محفل یاراں کی تلاش
اور طبیعت ہے کہ اس بزم میں گھبرائی بھی

عابد جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم