MOJ E SUKHAN

قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا

قیام میں بھی کسی راہ پر روانہ تھا

مرا مزاج ازل سے مسافرانہ تھا

۔

پڑا تھا اس کے بھی رخ پر نقاب ناموجود

مری بھی آنکھ پہ اک دست غائبانہ تھا

۔

ہم اپنی روح ترے جسم ہی میں چھوڑ آئے

تجھے گلے سے لگانا تو اک بہانہ تھا

۔

ترے حصول کی بازی بھی کتنی مشکل تھی

ادھر میں یکہ و تنہا ادھر زمانہ تھا

۔

میں اس کو دیکھتا رہتا تھا اس کی آنکھوں سے

خیال و خواب کا موسم بڑا سہانا تھا

محسن چنگیزی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم