۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مُورکھ
مجھے نظروں سے گرانے والے
تجھے معلوم بھی ہے یا کہ نہیں
تونے جو مٹّی کا بت توڑا ہے
کس قدر نادر و نایاب تھا وہ
وہ مہا وِیر کا بت تھا مُو رکھ
طاق میں رکھا ہوا مٹّی کا بت
جاننے والے جسے جانتے تھے
پیار کرتے تھے چرن چُھوتے تھے
کیا کہا۔۔وہ تجھے دیتا کیا تھا
یہ بتا۔۔۔۔۔۔۔وہ تیرا لیتا کیا تھا
مجھے نظروں سے گرانے والے
چند لوگوں کی رضا کی خاطر
اور یا۔۔۔ اپنے خدا کی خاطر
تونے انسان سے منہ موڑا ہے
تونے بھگوان کا دل توڑا ہے۔
سعید صاحب