MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

دو عمروں کی روئی دھن کر آیا ہوں

غزل

دو عمروں کی روئی دھن کر آیا ہوں
میں پردیس سے خود کو بن کر آیا ہوں

دریا سے یاری بھی کتنی مشکل ہے
میں کشتی کے ٹکڑے چن کر آیا ہوں

تم کو کتنا شوق ہے فون پہ باتوں کا
آج بھی باس کی باتیں سن کر آیا ہوں

جانے کون چرا لیتا تھا میرا وقت
وال کلاک پہ جالا بن کر آیا ہوں

آج کی شام گزاریں گے ہم چھتری میں
بارش ہوگی خبریں سن کر آیا ہوں

دوست کو سمجھانے کی خاطر آیا تھا
ان جانے میں خود کو ٹن کر آیا ہوں

الیاس بابر اعوان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم