MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے

ملے تو کاش مرا ہاتھ تھام کر لے جائے

وہ اپنے گھر نہ سہی مجھ کو میرے گھر لے جائے

۔

بتان شہر تمہارے لرزتے ہاتھوں میں

کوئی تو سنگ ہو ایسا کہ میرا سر لے جائے

۔

دیا کروں گا یوں ہی تیرے نام کی دستک

مرا نصیب مجھے لاکھ در بدر لے جائے

۔

وہ آدمی ہو کہ خوشبو بہت ہی رسوا ہے

ہوائے شہر جسے اپنے دوش پر لے جائے

۔

مرے قریب سے گزرے تو اہل دل بولے

اٹھا کے کون پرندہ لہو میں تر لے جائے

۔

پلٹ کے آئے تو شاید نہ کچھ دکھائی دے

وہ جا رہا ہے تو عاصمؔ مری نظر لے جائے

لیاقت علی عاصم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم