MOJ E SUKHAN

رنج میں بے شمار فریادیں

رنج میں بے شمار فریادیں
بے دلی کی شکار فریادیں

باز آئے نہ زخم بڑھنے سے
درد نے کیں ہزار فریادیں

سرد مہری پہ کیوں صنم قائم
اے دلِ بے قرار فریادیں

تجھ کو غمگین پاکے اوڑھے ہیں
زردیاں سبزہ زار فریادیں

ایک جیسا عذاب دونوں طرف
دم بخود آر پار فریادیں

عکس کس کربلا سے گزرا ہے
آئنہ پُر غبار فریادیں

ختم ہوتا ہے انتشار کہاں
کب تلک انتظار فریادیں

یوں نہ تُو میری خیرخواہی میں
شک کے خنجر اتار فریادیں

دیکھتے ہیں کہاں پہنچتی ہے
غمزدوں کی پکار فریادیں

ان کو منظور ناگوار نہ ہو
یوں نہ کر بار بار فریادیں

احمد منظور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم