MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

کہاں تلک وہ بھلا ہم کو آزمائیں گے

کہاں تلک وہ بھلا ہم کو آزمائیں گے
ہمارے صبر سے آخر وہ ٹوٹ جائیں گے

ہمارے دل کی حکایت وہ جان لیں گے ضرور
ہم ان کو خط نہ لکھیں گےغزل سنائیں گے

حصارِ کرب ہمارا بھی ٹوٹ جائے گا
ہمیں یقین ہے ہم لوگ مسکرائیں گے

تمہاری باتیں کریں گے ہم اپنی غزلوں میں
تمہارا نام کسی کو نہیں بتائیں گے

ہوائیں تیز ہوں کتنی بھی بےوفائی کی
ہم اپنے خون سے شمعِ وفا جلائیں گے

تقاضہ کرتے ہو تم پھول کو بچھانے کا
تمہاری راہ میں آنکھوں کو ہم بچھائیں گے

کبھی گہن سے تو نکلے گا ماہتاب، قمر
کبھی تو ہجر کے لمحات جگمگائیں گے

قمرسرور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم