کہاں تلک وہ بھلا ہم کو آزمائیں گے
ہمارے صبر سے آخر وہ ٹوٹ جائیں گے
ہمارے دل کی حکایت وہ جان لیں گے ضرور
ہم ان کو خط نہ لکھیں گےغزل سنائیں گے
حصارِ کرب ہمارا بھی ٹوٹ جائے گا
ہمیں یقین ہے ہم لوگ مسکرائیں گے
تمہاری باتیں کریں گے ہم اپنی غزلوں میں
تمہارا نام کسی کو نہیں بتائیں گے
ہوائیں تیز ہوں کتنی بھی بےوفائی کی
ہم اپنے خون سے شمعِ وفا جلائیں گے
تقاضہ کرتے ہو تم پھول کو بچھانے کا
تمہاری راہ میں آنکھوں کو ہم بچھائیں گے
کبھی گہن سے تو نکلے گا ماہتاب، قمر
کبھی تو ہجر کے لمحات جگمگائیں گے
قمرسرور