MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو

جینا ہے خوب اوروں کی خاطر جیا کرو
اک آدھ سانس خود بھی تو لیتے رہا کرو

کیا حرج ہے جو دل کی بھی سن لو کبھی کبھی
یوں اپنے آپ سے نہ ہمیشہ لڑا کرو

یہ بار زیست جھیلتے رہنا ہے عمر بھر
اپنی تھکن پہ ٹک کے کبھی سو لیا کرو

ہے بسکہ خاک اڑانے کی آوارگی کو کھو
رخت سفر میں گھر کو بھی باندھے پھرا کرو

افعی بھی سو رہے ہیں چنبیلی کی چھاؤں میں
نووارد چمن ہو سنبھل کر چلا کرو

کتنا کہا تھا تم سے کہ مت کھیلو آگ سے
اب جو سلگ پڑی ہے تو چپکے جلا کرو

بلقیس ظفیر الحسن

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم