MOJ E SUKHAN

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریں

جو زندگی بچی ہے اسے خار کیا کریں
ہم بھی تمہارے ہوتے مگر یار کیا کریں

ہیں بند سب دکانیں کہ بازار عشق میں
ملتا نہیں ہے ہم سا خریدار کیا کریں

لڑتے رہے ہوا سے جلاتے رہے چراغ
اب اور روشنی کے طلب گار کیا کریں

احباب چل دیے ترے دربار کی طرف
اور ہم کہ آ گئے ہیں سر دار کیا کریں

سیدھی سی بات یہ ہے ہمیں تم سے پیار ہے
شعروں میں اس خیال کی تکرار کیا کریں

ہم جان دے چکے ہیں کئی بار عشق میں
اب یہ بتاؤ شادؔ کہ اس بار کیا کریں

اشرف شاد

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم