MOJ E SUKHAN

اردو شعراء

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات

خط میں کیا کیا لکھوں یاد آتی ہے ہر بات پہ بات
یہی بہتر کہ اٹھا رکھوں ملاقات پہ بات

رات کو کہتے ہیں کل بات کریں گے دن میں
دن گزر جائے تو سمجھو کہ گئی رات پہ بات

اپنی باتوں کے زمانے تو ہوا برد ہوئے
اب کیا کرتے ہیں ہم صورت حالات پہ بات

لوگ جب ملتے ہیں کہتے ہیں کوئی بات کروجی
سے رکھی ہوئی ہوتی ہو مرے ہات پہ بات

مل نہ سکنے کے بہانے انہیں آتے ہیں بہت
ڈھونڈ لیتے ہیں کوئی ہم بھی ملاقات پہ بات

دوسروں کو بھی مزا سننے میں آئے باصرؔ
اپنے آنسو کی نہیں کیجئے برسات پہ بات

باصر کاظمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم