MOJ E SUKHAN

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں

غزل

اب تو اکثر یہ سوچتی ہوں میں
کیا ترے دل میں واقعی ہوں میں

شہر مفتوحہ دیکھ حسرت سے
تجھ کو سرحد سے دیکھتی ہوں میں

مفلسی دیکھتی ہے کیا ایسے
تیری تصویر بھی رہی ہوں میں

وقت آخر میں ملنے والے شخص
تجھ کو صدیوں سے جانتی ہوں میں

میرے ماتھے کی شکنیں جانتی ہیں
کس قدر تجھ کو سوچتی ہوں میں

رتجگوں سے بھرے ہوئے اے شخص
تیری آنکھوں میں جاگتی ہوں میں

بلقیس خان

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم